ملتان کی ثقافتی پہچان: متنوع سوغاتیں اور روایتی پکوان

ملتان کی ثقافتی پہچان: متنوع سوغاتیں اور روایتی پکوان

‏رپورٹ: رضی الدین رضی

ملتان کے لوگوں کی غذائی عادات مجموعی طورپر تو پنجاب کے دیگر شہروں سے مطابقت رکھتی ہیں لیکن ہرشہر کی طرح ملتان میں بھی کچھ روایتی کھانے ایسے ہیں جو صرف اسی شہر کا خاصہ ہیں۔دریا کے کنارے آباد ہونے کی وجہ سے یوں تو مچھلی ملتانیوں کی مرغوب غذاہونا چاہیے تھی ۔لیکن مچھلی یہاں غذائی عادات کا حصہ نہیں بن سکی۔زرعی علاقہ ہونے کی وجہ سے اہل ملتان کی غذا میں سبزیاں،دالیں اور دیگر اناج شامل ہیں۔اس کے علاوہ یہاں گوشت بھی رغبت سے کھایاجاتاہے۔ہرقدیم شہر کی طرح ملتان کے روایتی کھانے بھی اندرون شہر سے ملتے ہیں۔بیرون شہر جدید ہوٹل،ریسٹورنٹس اور فوڈسٹریٹس موجودہیں جبکہ اندرون شہر کھانے پینے کی وہی پرانی دکانیں ،ریہڑیاں اور ٹھیلے لوگوں کی توجہ کا مرکزہیں۔ڈولیروٹی،آلوبھئی،دال مونگ،فالودہ ،کھیر،چانپیں ،سوہن حلوہ،تلی ہوئی مچھلی اورتوے والی مچھلی جیسے پکوان یہ سب اندرون شہر مخصوص مقامات پر دستیاب ہیں۔بعض روایتی کھانے اور مٹھائیاں تو ایسی ہیں کہ جو سوغات کے طورپر ملتان کی پہچان بن چکی ہیں۔لیکن کچھ کھانے ایسے ہیں جو خاص مقامات پر ہی دستیاب ہیں اور رفتہ رفتہ ان کی اکا دکا دکانیں بھی معدوم ہوتی جارہی ہیں۔

ملتان کا نام سامنے آتے ہی روایتی کھانوں میں ڈولی روٹی کاتصور ذہن میں آتا ہے۔ڈولی روٹی کامرکز پاک گیٹ ہے۔یہ ملتان کا روایتی قدیم علاقہ ہے۔ ایک زمانے میں یہاں ڈولی روٹی کی بہت سی دکانیں تھیں اور اس کاروبار سے بہت سے خاندان منسلک تھے۔ایک خاص اندازمیں تیارکی گئی یہ روٹی سائز میں نان سے بھی چھوٹی ہوتی ہے لیکن اس کی مخصوص لذت کاکوئی جواب نہیں ۔ڈولی روٹی خمیرے آٹے سے تیار کی جاتی ہے اور آٹے میں چینی کاشیرا اور کچھ میوہ جات بھی ملائے جاتے ہیں جو اس میں مٹھاس پیدا کرتے ہیں۔پاک گیٹ النگ پرناصرصدیقی ڈولی روٹی کے حوالے سے خاص پہچان رکھتے ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ اس کاخمیر سونف ،دارچینی ،لونگ ،چنے کی دال سے تیارکیاجاتاہے جس کی وجہ سے یہ زودہضم ہے ۔انہوں نے بتایا کہ پرانے زمانے میں شادیوں کی تقریبات کئی کئی روز جاری رہتی تھیں ،دوردراز سے مہمان آتے تھے ،بارات کی روانگی کے وقت دلہن کے ساتھ یہ روٹی بھی بھیجی جاتی تھی کیوں کہ کئی روز بعد بھی اس کی تازگی برقراررہتی ہے، اس لئے بھی اسے ڈولی روٹی کہاجاتاہے انہوں نے ڈولی روٹی کی ایک وجہ تسمیہ یہ بتائی کہ پرانے زمانے میں ڈولی روٹی گھروں میں تیارکی جاتی تھی ،اس کاخمیرتیارہوتاتھاپھراس کے پیڑے بناکرچارپائیوں پرچادریں بچھا کر انہیں ڈھانپ دیاجاتا تھا ،اس لئے بھی اسے ڈولی روٹی کہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ غذائیت کے حوالے سے یہ ملتان والوں کی مرغوب غذاہے ۔ڈولی روٹی ،دال مونگ ،چنوں اوردہی بھلوں کے ساتھ یا دودھ میں بھگوکربھی کھائی جاتی ہے۔بعض لوگ سیخ کباب کے ساتھ بھی ڈولی روٹی کا لطف لیتے ہیں۔ایک زمانے میں یہ روٹی سوغات کے طورپربھی بھیجی جاتی تھی اوراس کی خوبی یہ ہے کہ خشک ہونے کے بعد بھی اس کی لذت برقراررہتی ہے۔

ملتان کی ثقافتی پہچان: متنوع سوغاتیں اور روایتی پکوان

ملتان کا ایک اور سستا اور روایتی کھانا آلوبھئی چھولے ہیں۔آلوچھولے تو خیر ملک بھر میں دستیاب ہوتے ہیں لیکن بھئی کااستعمال صرف ملتان میں ہے ۔بھئی کنول کے پودے کی وہ جڑ ہوتی ہے جسے کاٹ کر آلوچھولوں میں ڈال دیاجاتا ہے۔ملتان میں آلوبھئی چھولوں کامرکز سوتری وٹ کو سمجھا جاتا ہے۔ یہ بھی مقامی لوگوں کی بہت مرغوب غذا ہے اور لوگ اسے بہت شوق سے کھاتے ہیں۔

ملتان کی ایک اور سوغات دال مونگ صدیوں سے مشہور ہے۔ایک خاص اندازمیں تیار کی جانے والی یہ دال مونگ ذائقے کے حوالے سے بہت منفرد ہے۔ایک زمانے میں دوپہر کے وقت دال مونگ کی بہت سی دکانیں اور ریہڑیاں ہوتی تھیں اوریہ دال پتوں میں ڈال کر گاہکوں کوپیش کی جاتی تھی ۔ پیپل،بڑ یا اروی کے یہ بڑے پتے دال کو ایک نئے ذائقے سے آشنا کردیتے تھے۔ماہر ین کا کہنا ہے کہ ان پتوں کے کیمیائی اثرات کے نتیجے میں یہ دال زود ہضم تھی اور لوگوں کو بہت سی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتی تھی۔کسی زمانے میں دال مونگ ناشتے میں بھی استعمال ہوتی تھی۔چنے کی ابلی ہوئی دال اورابلے ہوئے ثابت مونگ کو ملا کر فروخت کیاجاتا تھا اور شاید اس خطے کی غربت کے نتیجے میں یہ سستا ناشتہ اور سستا کھانا لوگوں میں بہت مقبول تھا۔

گھنٹہ گھربکرے کی چانپوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ملتان میں یہ چانپیں ایک خاص انداز میں کوئلوں پر تیار کی جاتی ہیں اور انہیں کڑی کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ سری پائے،اوجھڑی کاسالن بھی ملتان میں ایک خاص انداز میں تیار کیا جاتا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں دوپہر کے وقت اوجھڑی کاسالن رغبت سے کھایاجاتا ہے۔ایک زمانے میں ملتان میں گائے کے گوشت کی کوئی دکان نہ تھی۔اب ہنوں کاچھجہ اس حوالے سے سب سے زیادہ معروف ہے۔ہنوں کاچھجہ دراصل ہنومان جی کا چھجہ کہلاتاتھا اور یہاں گائے کاذبیحہ ردعمل کے طورپر عام ہوا۔

‏چینے کا بھات کبھی ملتان کی ایک خاص سوغات ہوتا تھا جو اب ملتان میں کم ہی تیار ہوتا ہے۔ یہ بھات چینا کے ایک پودے کابیج ہے جسے کوٹ اور چھاج کر اس میں سے بیج نکال لیے جاتے ہیں جنہیں ابال کر دودھ اور چینی ملانے کے بعد پیا جاتا ہے۔ ‏سوہانجنا اورکچنار بھی ملتان کے خاص سالن ہیں۔یہ دونوں سالن دراصل درختوں کی کلیاں اور پھول ہیں جنہیں کبھی گوشت کے ساتھ اورکبھی بغیرگوشت کے پکایاجاتا ہے۔شوربے کے بغیر یہ سالن بہت لطف دیتا ہے۔شاید کسی اور علاقے میں موٹی سویوں کا سالن تیارکیاجاتاہولیکن یہ سالن ایک زمانے میں ملتان کی سوغاتوں میں سے ایک تھا۔

اگر ملتان کی خاص الخاص سوغات کا ذکر کیا جائے تو سوہن حلوہ بلاشبہ دنیا بھر میں ملتان کی شناخت ہے۔ پاک گیٹ میں سوہن حلوے کی بہت سے دکانیں ہیں ان میں حافظ جی کاسوہن حلوہ بہت معروف ہے ۔حافط جی سوہن کے حلوے کے مالک اللہ بخش نے”اے پی پی” کوبتایاکہ ان کی دکان 100سال پرانی ہے ،ہم اپنے داداکے زمانے سے اس کاروبارکے ساتھ منسلک ہے ۔حسین آگاہی اور قدیرآباد کے علاقے بھی سوہن حلوے کی نسبت سے جانے جاتے ہیں اوراسے کہا بھی ملتانی سوہن حلوہ جاتا ہے۔سوہن حلوہ تو ملتان میں صدیوں سے بنایاجارہاہے لیکن اصل شہرت حافظ کے ملتانی سوہن حلوے کو نصیب ہوئی ۔ بتایا گیا ہے کہ حافظ احمد دین نے 1930ءمیں یہ حلوہ تیار کیا اور اسے ملتان کی عظیم روحانی ہستی حضرت سوہن شہید سے منسوب کیا۔حضرت سوہن شہید کے مزارکا تو بہت سے لوگوں کو علم ہی نہیں ہاں سوہن حلوے کو سب جانتے ہیں اور کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس حلوے کو سوہن حلوہ کیوں کہاجاتا ہے۔حافظ کے علاوہ محمود اور حافظ عبدالودود کے حلووں کو بھی شہرت ملی ،یہ سب اپنے حلوے کےقدیمی اور100سال پرانا ہونا کےدعویدار ہیں ۔

ملتان میں خونی برج ،پاک گیٹ ،قدیرآباد،کوٹلہ تولے خان اوردیگرعلاقوں میں فالودہ کی بہت سے دکانیں موجودہیں لیکن ملتان والوں کو شجاع آباد کافالودہ بھی بہت پسندہے ۔شجاع آباد میں حاجی غلام یٰسین جھمٹ کی فالودہ کی دکان سے فالودہ کھانے کے لئے دوردرازسے لوگ آتے ہیں ۔حاجی غلام یٰسین نے بتایا کہ یہ علاقہ چونکہ گرم ہے اس لئے یہاں فالودہ ہمیشہ سے پسندکیاجاتاہے ۔دکان پرفالودہ کھانے کے لئے ملتان سے آئے ہوئے محمد عامر اورمحمد عادل نے کہاکہ اس دکان کی بہت شہرت سنی تھی ،ہم خاص طورپریہ شہرت سن کرفالودہ کھانے آئے ہیں ۔

ملتان کے روایتی کھانوں اور سوغاتوں سے ہٹ کر دوسری جانب جدید ملتان کے غذائی رجحانات اب تبدیل ہورہے ہیں۔جن روایتی کھانوں کا ذکر کیا گیاان میں سے بہت سوں کے بارے میں تو نئی نسل کو علم بھی نہ ہوگا۔وہ ان کے ذائقے تو کیا ناموں سے بھی آشنا نہ ہونگے۔آج برگر ،شوارما اور پیزا کادور ہے۔شہر میں فاسٹ فوڈ کی دکانیں تیزی سے ان روایتی کھانوں کے کلچرکو ختم کررہی ہیں۔روایتی کھانے تیارکرنےوالے بھی اس کلچر سے متاثرہورہے ہیں ۔ اگرچہ قدیم قلعہ میں جدید سٹیڈیم کے نیچے ایک فوڈسٹریٹ قائم کردی گئی ہےتاکہ ملتان کے روایتی کھانوں اور ثقافت کو فروغ ملے لیکن ایسی فوڈسٹریٹس تھڑوں ،ٹھیلوں ،ریہڑیوں اورقدیم دکانوں پر فروخت ہونےوالے ملتانی روایتی کھانوں کا متبادل نہیں بن سکیں۔اسی لئے کھانوں کے شوقین مخصوص ذائقے کی تلاش میں زیادہ تر روایتی علاقوں اور قدیم دکانوں کی طرف ہی رخ کرتے نظر آتے ہیں۔